تازہ ترین

ماحول کا تحفظ، انسانی بقا کی ضمانت

oilpollutionemissions

ماحول کی آلودگی آج کی دنیا کا سب سے بڑا مسئلہ تسلیم کیے جانے کے باوجود موسموں میں تیزرفتار تبدیلیاں، بڑھتی ہوئی آبادی، میٹھے پانی کی کمی اور ایندھن کے قدرتی وسائل کے کم ہوتے ہوئے ذخائر اور حیاتیاتی تنوع میں خطرناک حد تک کمی جیسے زندگی دشمن امکانات بڑھتے چلے جارہے ہیں۔ کرہ ارض پر ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے یا کمی اور حیاتیاتی تنوع کی بقا کے لیے پوری دنیا میں تحقیق اور تصنیف کی اہم ترین سرگرمیاں ریکارڈ کی جا رہی ہیں۔ امریکہ کی 90 سے زائد یونیورسٹیز کے ماہرین نے پانچ برس پر محیط تحقیقاتی رپورٹ میں دنیا کو خبردار کیا ہے کہ حیاتیاتی تنوع کا وہ حصہ جو قدرت نے انسان کو مفت فراہم کررکھا ہے اس کی مجموعی مالیت کم از کم 33 کھرب ڈالر سے زائد ہے، یہ رقم دنیا کی کل داخلی پیداوار سے بھی زیادہ ہے۔ دنیا کی 55 فیصد آبادی جبکہ مشرقی ایشیاءکی 70 فیصد سے زائد آبادی ساحلوں پر آباد ہے۔

ایک تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق دنیا کے مختلف خطوں میں موسمیاتی اور ماحولیاتی کیفیات تیزی سے تبدیل ہورہی ہیں جن کے سبب انسانی حیات شدید خطرات سے دوچار ہے۔ دنیا میں ہر سال 4 ارب ٹن کاربن فضا میں شامل ہورہی ہے۔ زمین کی فضا میں کاربن کی اس خوفناک آمیزش کے باعث انسانوں میں دمہ، کھانسی، پھیپھڑوں کا سرطان، جلد اور آنکھوں کے امراض، دل کے امراض اور خون کے سرطان جیسی جان لیوا بیماریاں پیدا ہو رہی ہیں۔ ان خطرناک بیماریوں کے سبب ہر سال لاکھوں افراد لقمہ اجل بن رہے ہیں۔ فضائی آلودگی، پانی کی آلودگی اور کروڑوں ٹن پیدا ہونے والے کوڑے کرکٹ سے پیدا ہونی والی بیماریوں کے باعث ہر سال 14 لاکھ نومولود بچے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ اعدادوشمار کے مطابق دنیا بھر میں ہر روز تقریباً 400 مائیں اپنے بچوں سے محروم ہو جاتی ہیں۔ دوسرے لفظوں میں ہرسیکنڈ میں ایک معصوم بچہ اپنی ماں کی گود سے نِکل کر موت کی دلدل میں اترجاتا ہے۔

عالمی رپورٹ کے مطابق ماحولیاتی آلودگی کے سبب انسانوں کی رہائش کے لیے دستیاب زمینی وسائل میں بھی کمی آرہی ہے چونکہ سمندر اور صحرا اپنے حجم میں اضافہ کررہے ہیں۔ گزشتہ 20 برس کے دوران مالی کے صحرا میں 220 مربع میل کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ہر سال 36 ہزار مربع میل برساتی جنگلات تباہ ہورہے ہیں۔ انسانوں کے ہاتھوں جنگلات کی صفائی کایہ سفاک عمل زمینی ماحول کا سب سے بڑا دشمن بن کر سامنے آیا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق صرف امریکا میں سالانہ پانچ کروڑ ٹن کاغذ کی پیداوار کا ہدف پورا کرنے کے لیے 85 کروڑ سے زائد درخت کاٹ دیے جاتے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ماحولیات سے متعلق خطرات میں کمی لانے کے اقدامات سے ہر سال دنیا میں ایک کروڑ تیس لاکھ مظلوم انسانوں کی جانیں بچائی جاسکتی ہیں۔ 192 ممالک میں ماحولیاتی عوامل کے انسانی صحت پر مرتب ہونے والے اثرات کی مطالعاتی رپورٹ کے مطابق 23 ممالک میں ہونے والی کل انسانی اموات میں سے 10 فی صد کی وجہ ماحول سے متعلق خطرات (یعنی غیر محفوظ پانی، نکاسی آب کا خراب نظام اور صحت وصفائی کی ناقص صورتحال) اور گھروں میں کھانا پکانے کے لیے ٹھوس ایندھن کے استعمال کی وجہ سے پیدا ہونے والی فضائی آلودگی ہے۔ دنیا بھر میں5 برس سے کم عمر بچے ماحول سے متعلق مسائل کا سب سے زیادہ شکار ہوتے ہیں۔ ان بچوں میں 74 فیصد اموات کا سبب دستوں کی بیماری اور سانس کی نالی کے نچلے حصے کی سوزش ہوتی ہے۔

ماحولیات کی عالمی صورتحال میں پاکستان کا پیش منظر بھی چنداں مختلف نہیں ہے۔ پاکستان اپنے محل وقوع کے اعتبار سے کئی ماحولیاتی خطوں میں منقسم ہے۔ سمندری ایکوسٹم سے لے کر صحراوں، میدانوں، ہمالیہ اور ہندوکش کے پہاڑوں تک پاکستان کا ماحولیاتی نظام اپنی فطری ہیئت میں اقتصادی ترقی اور تعمیر کے امکانات سے مزین دکھائی دیتا ہے۔ ملکی آبادی کا اکثریتی پیشہ زراعت ہونے کے سبب ملک کے جی ڈی پی میں 25 فیصد اور برآمدات میں 60 فیصد حصہ شعبہ زراعت سے متعلق ہے۔ گزشتہ 60 برس سے ماحولیاتی نظام کے دفاع کے ضمن میں قومی غفلت کا نتیجہ ہے کہ پاکستان کو ہرسال ماحولیاتی آلودگی کے باعث جی ڈی پی کے 9 فیصد کے مساوی نقصان اٹھانا پڑرہا ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ پاکستان ماحولیاتی آلودگی کے باعث ہرسال 365 ارب روپے کا خسارہ برداشت کررہا ہے۔ صاف پینے کے پانی کی فراہمی، نکاسی آب کی سہولیات اور صحت وصفائی کے مواقع نہ ہونے کے سبب پاکستان کو ہر سال 112 ارب روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے۔ زرعی اراضی کو ماحولیاتی آلودگی کے سبب پہنچنے والے نقصان کا تخمینہ 70 ارب سالانہ، گھروں میں ہوا کی آلودگی کی وجہ سے 67 ارب سالانہ، شہروں میں فضائی آلودگی کے سبب 65 ارب روپے سالانہ، فضا میں سیسے کی آمیزش کی وجہ سے 45 ارب روپے سالانہ، جبکہ چراگا ہیں تباہ ہونے اور صحراوں کے حجم میں اضافے کے سبب پاکستانی معیشت کو 7 ارب روپے کا سالانہ نقصان ہورہا ہے۔ تمر کے جنگلات میں کمی اور دریائے سندھ میں پانی کم پڑجانے سے سرکاری اعدادوشمار کی روشنی میں پاکستانی معیشت اور عوام کو معاشی بدحالی کا سامنا ہے۔ 1990ء میں تمر کے جنگلات ایک لاکھ 60 ہزار ہیکٹرز کے رقبے پر پھیلے ہوئے تھے لیکن 2003ء میں یہ رقبہ کم ہوکر ایک لاکھ 6 ہزار ہیکٹرز رہ گیا تھا جس کی وجہ سے فشریز کی صنعت پر منفی اثرات مرتب ہوئے۔ اسی طرح دریائے سندھ میں پانی کی کمی کی وجہ سے ٹھٹھہ اور بدین کی لاکھوں ایکٹر اراضی سمندر میں ڈوب گئی جس کے نتیجے میں 125 ملین ڈالرز کا نقصان ہوا۔ انٹرنیشنل یونین فارکنزرویشن آف نیچر کی تازہ ترین رپورٹ میں بتایاگیا ہے کہ پاکستان میں ماحولیاتی آلودگی کے سبب غیر انسانی حیات کی 105 اقسام معدوم ہونے کے خطرے سے دوچار ہوگئی ہیں۔ پاکستان میں 103 اقسام کے جانوروں اور 2 اقسام کے پودوں کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ 23 دودھ پلانے والے جانور، 25 پرندوں کی اقسام، 10 رینگنے والے جانوروں کی اقسام جبکہ مچھلیوں کی 30 اقسام کے علاوہ کیڑے مکوڑوں کی 15 اقسام معدومیت کے خطرے کے قریب ہیں

Share to spread ...Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on Google+Share on LinkedInShare on StumbleUponDigg thisShare on TumblrShare on RedditPin on Pinterest

اپنی رائے دیجئے

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*